اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان نے ملک پر اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری رہنے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے ایک ناکام اور غیر قانونی مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے کا نتیجہ ہیں، جس کی ذمہ داری لبنانی حکام پر عائد ہوتی ہے۔
حزب اللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل امریکی حمایت اور مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ لبنان میں بمباری، شہریوں کے قتل اور گھروں و دیہات کی تباہی جاری رکھے ہوئے ہے۔ تنظیم کے مطابق گزشتہ روز کے حملوں میں 4 افراد شہید جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔
حزب اللہ نے لبنانی حکام کو اسرائیل کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا کہ اس عمل کو جاری رکھنے سے تل ابیب کو اپنے مقاصد حاصل کرنے اور لبنان پر اپنی شرائط مسلط کرنے کے لیے مزید وقت اور موقع ملے گا۔
تنظیم نے براہِ راست مذاکرات اور فریم ورک معاہدے سے متعلق لبنانی حکام کے کامیابی کے دعووں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی قبضے، حملوں، قتل عام اور تباہی کا جاری رہنا اس مذاکراتی راستے کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔
حزب اللہ نے کہا کہ بعض لبنانی قیدیوں کی رہائی اگرچہ اہم ہے، تاہم یہ ایسے مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے کا جواز نہیں بن سکتی جو، اس کے بقول، لبنان اور اس کے عوام کے تحفظ میں ناکام رہا ہے۔
بیان کے اختتام پر حزب اللہ نے لبنانی حکام سے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی، ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے مشترکہ قومی اصولوں کی طرف واپسی اور اسرائیلی حملوں کے مقابلے میں متحد قومی مؤقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔
آپ کا تبصرہ